@sacc3.69: 🤣 LA PLENA ES #ecuador🇪🇨 #trabajo #paratiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii #ipsp💙🖤💪 #VIRAL

🤎SACC🤍
🤎SACC🤍
Open In TikTok:
Region: EC
Wednesday 09 September 2026 17:59:23 GMT
699787
31064
118
48440

Music

Download

Comments

yair_domiguez
Alan Dominguez :
me levantaron una carta administrativa por hacerlos
2026-10-27 01:33:04
10
venados16
Josa Larios :
soy la RH y me han pasado los stickers de las demás áreas jajajaja
2026-10-25 05:35:03
36
queen.mayam
Queen Mayam :
quién fue el chismoso 🤣🤣🤣🤣
2026-10-26 08:41:54
3
quechuchaescriboaqui
quechuchaescriboaqui :
ponlo para descargar porfa
2026-10-26 21:22:51
0
edu775182
Edu :
No entiendo porque de aparecer el buscador.
2026-10-27 05:13:01
0
alexanderjmb
ForajidoDelMar :
jajajajaja
2026-10-27 03:25:46
0
martinpurihuaman10
Martin Purihuaman :
Es verdad eso
2026-10-26 18:53:32
0
israel.guevara89
Israel Guevara :
kevin hace eso jajjaja
2026-10-03 01:13:24
7
lilianavivasgonzalez
Liliana vivas :
es verdaaaaa
2026-10-25 22:27:35
0
lauriitha0624
Lauriitha🐧🌈 :
Si soy
2026-10-25 15:32:35
0
aldair_vera_28
A L D A 💙 :
🤣
2026-10-27 02:07:42
0
jullycarpioc
Jully Carpio :
Jajajajajajajaja
2026-10-25 14:22:05
0
faniipimentel
Fanii Pimentel :
2026-10-26 20:03:09
0
egos.dj.gamer
EGOS.M.GAMEZ :
2026-10-26 13:43:40
0
chfrankkk
Frank🥷🏽 :
jajajajaja
2026-10-25 23:19:06
0
maryrubysalmeronr
maryrubysalmeronr :
2026-10-24 23:54:32
0
chef_barber1
🍖🔪Chef Barber✂️💈 :
[Lágrimas de alegría][Lágrimas de alegría]
2026-10-06 13:45:31
1
dannymora25
DannyMora :
2026-10-25 03:17:29
0
greenki_ft_iloveyourlips
Kiel :
yo ago esto
2026-10-26 17:01:27
0
oscarcastro495
Oscar Castro :
qur no chingaaaaa
2026-10-27 03:08:42
0
ghostbusters7x8
👻👻 :
@diabliro.v.h total
2026-10-27 06:13:25
1
freilireverol18
R😌🍒 :
@lexiberthojeda @Paola Castillo.💙 [Risa aprobada]
2026-10-27 00:50:19
1
ghostbusters7x8
👻👻 :
@milagroselizabeth94 tengo pruebas doctora
2026-10-27 06:13:03
0
_mxrixn_98
Marian Hernández :
@jotavelu tuuuu [Risa aprobada][Risa aprobada][Risa aprobada][Risa aprobada][Risa aprobada]
2026-10-27 00:44:18
0
nanaescobarsuarez
Ëscöbär Süårëz Dïänï :
@Darwin Cadena ut 😃
2026-10-26 01:51:33
0
To see more videos from user @sacc3.69, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

**مٹی دے باوے — کچھ محبتیں نصیب نہیں ہوتیں، مگر ان کی سزا زندگی میں آنے والی کسی اور عورت کو ملتی ہے۔ 💔🥀** اس ڈرامے سے ایک تلخ حقیقت سمجھ آئی کہ شاید مرد محبت ایک ہی بار کرتا ہے، اور جب وہ محبت اسے نہیں ملتی تو وہ زندگی میں آگے بڑھ کر کسی اور سے شادی کر لیتا ہے، پھر کسی تیسری کو اپنا ہمسفر بنا لیتا ہے۔ دنیا کے سامنے وہ ایک اچھا شوہر، ایک ذمہ دار انسان اور ایک مکمل زندگی گزارنے والا شخص دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں آج بھی وہی پہلی محبت زندہ رہتی ہے جسے وہ کبھی اپنا نہ بنا سکا۔ **لیکن سوال یہ ہے کہ اگر محبت کسی ایک سے تھی تو زندگی کے وعدے دوسروں سے کیوں کیے؟** 💔 شادی ہو جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسان محبت بھی کرنے لگا ہے۔ بعض رشتے خاندان کی خواہش پر بنتے ہیں، کچھ حالات کے ہاتھوں اور کچھ وقت کے ساتھ سمجھوتوں میں بدل جاتے ہیں۔ انسان ایک گھر بسا لیتا ہے، بچوں کا باپ بن جاتا ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی اسی گھر میں آباد ہو۔ اور اس سب کے درمیان ایک عورت ہوتی ہے، جو اپنے شوہر کو صرف اپنا ہمسفر نہیں سمجھتی بلکہ اپنی محبت، اپنی دعاؤں اور اپنے مستقبل کا مرکز بنا لیتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندگی تلاش کرتی ہے، اس کی پسند کو اپنی پسند بناتی ہے، اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے اور یہ یقین رکھتی ہے کہ جس شخص کے نام کے ساتھ اس کا نام جڑا ہے، اس کے دل میں بھی اس کے لیے کوئی خاص جگہ ہوگی۔ مگر اگر ایک دن اسے محسوس ہو کہ وہ اپنے شوہر کی زندگی میں تو موجود ہے، لیکن اس کے دل کی کہانی میں کہیں اور کوئی کردار آج بھی زندہ ہے، تو اس عورت پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ کسی سے مقابلہ بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ جس محبت کا مقابلہ کرنا ہو، وہ محبت تو شاید برسوں پہلے شروع ہوئی تھی۔ وہ کسی سے اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتی، کیونکہ اسے تو ہمیشہ یہی بتایا گیا کہ وہ اس شخص کی بیوی ہے، اس کی زندگی کی ساتھی ہے، اس کے گھر کی عزت ہے۔ مگر اس کے دل کا کیا، جسے صرف رشتے کا نام نہیں، محبت کا احساس بھی چاہیے؟ **سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی پہلی محبت کو یاد رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی نامکمل محبت کی یادوں کے ساتھ کسی دوسری عورت کو مکمل محبت کے خواب دکھاتا ہے۔** پہلی محبت یاد رہ جانا شاید انسان کے اختیار میں نہ ہو، مگر کسی دوسرے انسان کے جذبات کے ساتھ انصاف کرنا اس کے اختیار میں ضرور ہے۔ ماضی کو بھلانا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا، لیکن اپنے ماضی کی وجہ سے حال میں موجود کسی بے قصور انسان کو محبت سے محروم رکھنا بھی کہاں کا انصاف ہے؟ کسی عورت سے شادی کرنا صرف اسے اپنے نام سے جوڑ لینا نہیں ہوتا۔ اس کے اعتماد، اس کی وفاداری، اس کی امیدوں اور اس کے مستقبل کی ذمہ داری قبول کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے یہ احساس بھی ملنا چاہیے کہ وہ محض آپ کی زندگی کا ایک سمجھوتا نہیں، بلکہ ایک ایسا انسان ہے جس کے جذبات آپ کے لیے اہم ہیں۔ اور ہاں، ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی پہلی محبت کو یاد رکھنے کے باوجود اپنی موجودہ زندگی کے ساتھ پوری وفاداری سے کھڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ یادیں دل میں رہ سکتی ہیں، مگر رشتوں کا حق موجودہ زندگی میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ **مٹی دے باوے ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ محبت اور شادی دو الگ حقیقتیں ہو سکتی ہیں۔ شادی انسان کو ایک رشتے میں باندھ دیتی ہے، مگر محبت دل میں جگہ بناتی ہے۔ اور جب ان دونوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جائے تو بظاہر مکمل نظر آنے والی زندگی بھی اندر سے ادھوری رہ سکتی ہے۔** کبھی کبھی ایک عورت اپنے شوہر کی زندگی میں سب کچھ ہوتی ہے، سوائے اس ایک احساس کے جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے: یہ یقین کہ اسے صرف اپنایا نہیں گیا، دل سے چاہا بھی گیا ہے۔ 🥀 **کیونکہ ہر عورت اپنے شوہر کی پہلی محبت بننے کی خواہش نہیں رکھتی، مگر ہر عورت یہ ضرور چاہتی ہے کہ وہ اس کی موجودہ محبت ہو، اس کی عزت ہو اور اس کے ساتھ نبھائے جانے والے رشتے میں اسے کبھی کسی نامکمل کہانی کا متبادل محسوس نہ ہو۔** 💔 #MittiDeBawey #PakistaniDrama #LoveAndMarriage #EmotionalUrduWriting #KanwalWrites03
**مٹی دے باوے — کچھ محبتیں نصیب نہیں ہوتیں، مگر ان کی سزا زندگی میں آنے والی کسی اور عورت کو ملتی ہے۔ 💔🥀** اس ڈرامے سے ایک تلخ حقیقت سمجھ آئی کہ شاید مرد محبت ایک ہی بار کرتا ہے، اور جب وہ محبت اسے نہیں ملتی تو وہ زندگی میں آگے بڑھ کر کسی اور سے شادی کر لیتا ہے، پھر کسی تیسری کو اپنا ہمسفر بنا لیتا ہے۔ دنیا کے سامنے وہ ایک اچھا شوہر، ایک ذمہ دار انسان اور ایک مکمل زندگی گزارنے والا شخص دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں آج بھی وہی پہلی محبت زندہ رہتی ہے جسے وہ کبھی اپنا نہ بنا سکا۔ **لیکن سوال یہ ہے کہ اگر محبت کسی ایک سے تھی تو زندگی کے وعدے دوسروں سے کیوں کیے؟** 💔 شادی ہو جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسان محبت بھی کرنے لگا ہے۔ بعض رشتے خاندان کی خواہش پر بنتے ہیں، کچھ حالات کے ہاتھوں اور کچھ وقت کے ساتھ سمجھوتوں میں بدل جاتے ہیں۔ انسان ایک گھر بسا لیتا ہے، بچوں کا باپ بن جاتا ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی اسی گھر میں آباد ہو۔ اور اس سب کے درمیان ایک عورت ہوتی ہے، جو اپنے شوہر کو صرف اپنا ہمسفر نہیں سمجھتی بلکہ اپنی محبت، اپنی دعاؤں اور اپنے مستقبل کا مرکز بنا لیتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندگی تلاش کرتی ہے، اس کی پسند کو اپنی پسند بناتی ہے، اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے اور یہ یقین رکھتی ہے کہ جس شخص کے نام کے ساتھ اس کا نام جڑا ہے، اس کے دل میں بھی اس کے لیے کوئی خاص جگہ ہوگی۔ مگر اگر ایک دن اسے محسوس ہو کہ وہ اپنے شوہر کی زندگی میں تو موجود ہے، لیکن اس کے دل کی کہانی میں کہیں اور کوئی کردار آج بھی زندہ ہے، تو اس عورت پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ کسی سے مقابلہ بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ جس محبت کا مقابلہ کرنا ہو، وہ محبت تو شاید برسوں پہلے شروع ہوئی تھی۔ وہ کسی سے اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتی، کیونکہ اسے تو ہمیشہ یہی بتایا گیا کہ وہ اس شخص کی بیوی ہے، اس کی زندگی کی ساتھی ہے، اس کے گھر کی عزت ہے۔ مگر اس کے دل کا کیا، جسے صرف رشتے کا نام نہیں، محبت کا احساس بھی چاہیے؟ **سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی پہلی محبت کو یاد رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی نامکمل محبت کی یادوں کے ساتھ کسی دوسری عورت کو مکمل محبت کے خواب دکھاتا ہے۔** پہلی محبت یاد رہ جانا شاید انسان کے اختیار میں نہ ہو، مگر کسی دوسرے انسان کے جذبات کے ساتھ انصاف کرنا اس کے اختیار میں ضرور ہے۔ ماضی کو بھلانا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا، لیکن اپنے ماضی کی وجہ سے حال میں موجود کسی بے قصور انسان کو محبت سے محروم رکھنا بھی کہاں کا انصاف ہے؟ کسی عورت سے شادی کرنا صرف اسے اپنے نام سے جوڑ لینا نہیں ہوتا۔ اس کے اعتماد، اس کی وفاداری، اس کی امیدوں اور اس کے مستقبل کی ذمہ داری قبول کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے یہ احساس بھی ملنا چاہیے کہ وہ محض آپ کی زندگی کا ایک سمجھوتا نہیں، بلکہ ایک ایسا انسان ہے جس کے جذبات آپ کے لیے اہم ہیں۔ اور ہاں، ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی پہلی محبت کو یاد رکھنے کے باوجود اپنی موجودہ زندگی کے ساتھ پوری وفاداری سے کھڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ یادیں دل میں رہ سکتی ہیں، مگر رشتوں کا حق موجودہ زندگی میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ **مٹی دے باوے ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ محبت اور شادی دو الگ حقیقتیں ہو سکتی ہیں۔ شادی انسان کو ایک رشتے میں باندھ دیتی ہے، مگر محبت دل میں جگہ بناتی ہے۔ اور جب ان دونوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جائے تو بظاہر مکمل نظر آنے والی زندگی بھی اندر سے ادھوری رہ سکتی ہے۔** کبھی کبھی ایک عورت اپنے شوہر کی زندگی میں سب کچھ ہوتی ہے، سوائے اس ایک احساس کے جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے: یہ یقین کہ اسے صرف اپنایا نہیں گیا، دل سے چاہا بھی گیا ہے۔ 🥀 **کیونکہ ہر عورت اپنے شوہر کی پہلی محبت بننے کی خواہش نہیں رکھتی، مگر ہر عورت یہ ضرور چاہتی ہے کہ وہ اس کی موجودہ محبت ہو، اس کی عزت ہو اور اس کے ساتھ نبھائے جانے والے رشتے میں اسے کبھی کسی نامکمل کہانی کا متبادل محسوس نہ ہو۔** 💔 #MittiDeBawey #PakistaniDrama #LoveAndMarriage #EmotionalUrduWriting #KanwalWrites03
آنجلینا جولی با شهرت و میلیون‌ها دلار می‌توانست هر گوشه‌ای از دنیا را انتخاب کند؛ اما یک روز در افغانستان، پای حرف دخترانی نشست که فقط یک چیز می‌خواستند: یک جای امن برای درس خواندن. حدود اواخر سال ۲۰۰۸، جولی که آن زمان سفیر حسن‌نیت کمیساریای عالی سازمان ملل برای پناهندگان بود، به منطقه تنگی در ننگرهار رفت؛ جایی که هزاران خانواده افغان پس از سال‌ها زندگی در پاکستان به کشور برگشته بودند. تنگی خانه حدود ۷۸۰۰ نفر، در نزدیک به ۱۳۰۰ خانواده بود. زندگی از نو شروع شده بود؛ اما برای دختران، یک مشکل بزرگ وجود داشت: مدرسه‌ای که بتوانند با خیال راحت در آن درس بخوانند، وجود نداشت. در مدرسه موجود، بیش از ۱۳۰۰ دانش‌آموز درس می‌خواندند و شش صنف حتی در خیمه‌ها برگزار می‌شد. جولی این صحنه را دید و فقط همد.ردی نکرد. او ۷۵ هزار دالر برای ساخت یک مدرسه ابتدایی مخصوص دختران پرداخت. هجده ماه بعد، در مارچ ۲۰۱۰، همان جایی که کمبود امکانات آینده دختران را تهد.ید می‌کرد، مدرسه‌ای با هشت صنف، چهار ساختمان اداری، یک چاه آب و هشت تشناب افتتاح شد؛ مدرسه‌ای که می‌توانست در دو نوبت، تا ۸۰۰ دختر را آموزش دهد. اما ارزش این مدرسه را بهتر از هر آمار، حرف‌های دختران نشان می‌داد. لیلا، دختر ۱۴ ساله‌ای که خانواده‌اش در سال ۲۰۰۸ از پاکستان برگشته بود، گفت همیشه آرزوی رفتن به مدرسه را داشته و حالا دوباره امید دارد روزی معلم شود. حکیمه، دختر ۱۴ ساله دیگری، پیش از آن در صنف‌هایی درس می‌خواند که بعضی‌شان در خیمه بودند. او گفته بود به دلیل مشکلات فرهنگی و نگرانی‌های امن.یتی، تصمیم گرفته بود تحصیلش را رها کند. حالا برای او و صدها دختر دیگر، یک درِ تازه باز شده بود. جولی بعدها بارها به افغانستان برگشت و حمایت از آموزش دختران را ادامه داد. در قلاعی گُدر، مدرسه دیگری که با حمایت او ساخته شد، چند سال بعد حدود ۴۰۰ دختر را زیر یک سقف جمع کرد؛ حتی والدین روستا تعهد کردند ازدواج دخترانشان را تا پایان تحصیل به تأخیر بیندازند. شاید این مهم‌ترین بخش داستان آنجلینا جولی در افغانستان باشد: او برای دختران، آینده را به جای آنها انتخاب نکرد؛ فقط کمک کرد دوباره حق انتخاب داشته باشند. و امروز، وقتی به آن داستان نگاه می‌کنیم، یک سؤال تلخ باقی می‌ماند: اگر یک مدرسه توانست آن‌همه رؤیا را زنده کند، با دخترانی که امروز از رفتن به مکتب و دانشگاه محر.وم‌اند، چند رؤیا در سکوت خامو.ش می‌شود؟ #افغانستان🇦🇫 r #History
آنجلینا جولی با شهرت و میلیون‌ها دلار می‌توانست هر گوشه‌ای از دنیا را انتخاب کند؛ اما یک روز در افغانستان، پای حرف دخترانی نشست که فقط یک چیز می‌خواستند: یک جای امن برای درس خواندن. حدود اواخر سال ۲۰۰۸، جولی که آن زمان سفیر حسن‌نیت کمیساریای عالی سازمان ملل برای پناهندگان بود، به منطقه تنگی در ننگرهار رفت؛ جایی که هزاران خانواده افغان پس از سال‌ها زندگی در پاکستان به کشور برگشته بودند. تنگی خانه حدود ۷۸۰۰ نفر، در نزدیک به ۱۳۰۰ خانواده بود. زندگی از نو شروع شده بود؛ اما برای دختران، یک مشکل بزرگ وجود داشت: مدرسه‌ای که بتوانند با خیال راحت در آن درس بخوانند، وجود نداشت. در مدرسه موجود، بیش از ۱۳۰۰ دانش‌آموز درس می‌خواندند و شش صنف حتی در خیمه‌ها برگزار می‌شد. جولی این صحنه را دید و فقط همد.ردی نکرد. او ۷۵ هزار دالر برای ساخت یک مدرسه ابتدایی مخصوص دختران پرداخت. هجده ماه بعد، در مارچ ۲۰۱۰، همان جایی که کمبود امکانات آینده دختران را تهد.ید می‌کرد، مدرسه‌ای با هشت صنف، چهار ساختمان اداری، یک چاه آب و هشت تشناب افتتاح شد؛ مدرسه‌ای که می‌توانست در دو نوبت، تا ۸۰۰ دختر را آموزش دهد. اما ارزش این مدرسه را بهتر از هر آمار، حرف‌های دختران نشان می‌داد. لیلا، دختر ۱۴ ساله‌ای که خانواده‌اش در سال ۲۰۰۸ از پاکستان برگشته بود، گفت همیشه آرزوی رفتن به مدرسه را داشته و حالا دوباره امید دارد روزی معلم شود. حکیمه، دختر ۱۴ ساله دیگری، پیش از آن در صنف‌هایی درس می‌خواند که بعضی‌شان در خیمه بودند. او گفته بود به دلیل مشکلات فرهنگی و نگرانی‌های امن.یتی، تصمیم گرفته بود تحصیلش را رها کند. حالا برای او و صدها دختر دیگر، یک درِ تازه باز شده بود. جولی بعدها بارها به افغانستان برگشت و حمایت از آموزش دختران را ادامه داد. در قلاعی گُدر، مدرسه دیگری که با حمایت او ساخته شد، چند سال بعد حدود ۴۰۰ دختر را زیر یک سقف جمع کرد؛ حتی والدین روستا تعهد کردند ازدواج دخترانشان را تا پایان تحصیل به تأخیر بیندازند. شاید این مهم‌ترین بخش داستان آنجلینا جولی در افغانستان باشد: او برای دختران، آینده را به جای آنها انتخاب نکرد؛ فقط کمک کرد دوباره حق انتخاب داشته باشند. و امروز، وقتی به آن داستان نگاه می‌کنیم، یک سؤال تلخ باقی می‌ماند: اگر یک مدرسه توانست آن‌همه رؤیا را زنده کند، با دخترانی که امروز از رفتن به مکتب و دانشگاه محر.وم‌اند، چند رؤیا در سکوت خامو.ش می‌شود؟ #افغانستان🇦🇫 r #History

About