@thodientapsu: Mưa gió nồm ẩm at nhảu liên tục#antoandien #thietbichongdiengiat #dento #xuhuong

Chống Giật DENTO
Chống Giật DENTO
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 06 October 2026 10:18:47 GMT
129
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @thodientapsu, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#maa #loveyoumaa #missyoumaa #loveyou #unfreezmyaccount  ماں کا پلو اسکول میں ٹیچر نے کہا اپنی ماں کے پلو پر ایک مضمون لکھو۔
#maa #loveyoumaa #missyoumaa #loveyou #unfreezmyaccount ماں کا پلو اسکول میں ٹیچر نے کہا اپنی ماں کے پلو پر ایک مضمون لکھو۔" ایک طالبِ علم نے ماں کے پلو کے بارے میں اتنا خوبصورت مضمون لکھا کہ وہ دل کو چھو لینے والا ہے۔ ماں کا پلّو ہمیشہ اُس کی باوقار شخصیت کی۔ پہچان رہا ہے۔ اسی پلو سے وہ چولہے سے گرم برتن اُتارتی تھی۔ اسی سے بچوں کا پسینہ اور آنسو پونچھتی، اُن سے كان صاف کرتی اور چہرے صاف کرتی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد جب ماں اپنے پلو سے بچوں کا منہ صاف کرتی تو بچوں کو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ کبھی اگر بچے کی آنکھ میں گرد چلی جاتی تو ماں اپنے پلو کو مروڑ کر باریک سا گھولا بناتی، اپنی سانس سے گرم کرتی اور نرمی سے آنکھ پر لگا دیتی اور نہ جانے کیسے درد خود بخود ختم ہو جاتا۔ ماں کی گود میں سونے والے بچے کے لیے اُس کی گود بستر ہوتی تھی اور اُس کی چادر یا پلو لحاف جب گھر میں کوئی اجنبی مہمان آتا تو بچے ماں کے پلو کے پیچھے چھپ جاتے باہر جاتے وقت بچے ماں کے پلو کو پکڑ کر چلتے تھے وہی ان کی رہنمائی کرتا تھا۔ جب تک بچے کے ہاتھ میں ماں کا پلو ہوتا، اُسے لگتا جیسے پوری دنیا اُس کی مٹھی میں ہے۔ سردیوں میں ماں اپنے پلو سے بچے کو ہر طرف سے لپیٹ کر سردی سے بچاتی تھی۔ اور موسلا دھار بارش میں یہی پلو چھتری بن کر بچے کو بھیگنے سے محفوظ رکھتا تھا۔ یہی پلو ہاتھ پونچھنے کے تولیے کا کام بھی کرتا تھا۔ ماں اپنے پلو میں درختوں کے نیچے گرے ہوئے پھل اور خوشبودار پھول بھی جمع کر لیتی تھی۔ اسی سے گھر کا سامان صاف کیا جاتا تھا۔ ماں کے پلو کی گرہ ایک چلتی پھرتی بینک یا خزانہ ہوتی تھی۔ کبھی کبھی بچوں کو اُس میں بندھے ہوئے چند سکے بھی مل جاتے، جو کسی نعمت سے کم نہ تھے۔ ماں کا پلو، دوپٹہ یا چادر ایک جادوئی احساس تھا۔ ایک ایسا احساس جسے آج کی نسل شاید کبھی سمجھ نہ سکے۔ یہ تحریر ان تمام ماؤں کے نام جنہوں نے اپنے دوپٹے یا چادر کے سائے میں ہمیں_ محبت، تحفظ اور سکون دیا۔

About